اسلام آباد: پاکستانی بینکوں کی ریمیٹنس خدمات میں سستی کی تلاش جاری ہے تاکہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔ یہ اقدام غیر ملکی ریمیٹنس کمپنیوں پر انحصار کم کرنے اور سرحد پار کی مالیاتی ٹرانزیکشنز میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے، پاکستان کے مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق، یورپی ممالک سے ریمیٹنس کا حجم مالی سال 26 میں 5.22 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ مالی سال 25 میں 4.54 بلین ڈالر اور مالی سال 24 میں 3.85 بلین ڈالر تھا۔
پاکستانی بینکوں کی یہ کوششیں اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب کہ عالمی سطح پر ریمیٹنس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ بینکوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے صارفین کو کم قیمت اور موثر خدمات فراہم کر کے انہیں غیر ملکی کمپنیوں کی خدمات کے استعمال سے روک سکیں۔ اس کے علاوہ، بینکوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے تاکہ ریمیٹنس کی ترسیل کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
بینکوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کر رہے ہیں تاکہ ریمیٹنس کی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، بینکوں کی جانب سے صارفین کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے مختلف مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ وہ بینکوں کی خدمات کو ترجیح دیں۔
یہ اقدامات نہ صرف پاکستانی بینکوں کی مالی حالت کو مستحکم کریں گے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی ایک بہتر مالیاتی نظام فراہم کریں گے۔ اس طرح، پاکستانی بینکوں کی ریمیٹنس خدمات میں سستی کی تلاش ایک مثبت قدم ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔