اسلام آباد: ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری نے حکومت کو اربوں کا ٹیکہ لگا دیا۔ اس صورتحال نے اہم واٹر پروجیکٹس کی لاگت میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ حالیہ اقتصادی تجزیوں کے مطابق، روپے کی قدر میں کمی نے ترقیاتی منصوبوں کی مالیات پر منفی اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستانی روپے کی بے قدری کی بنیادی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب اور ملکی معیشت کی کمزوری شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے عوامی خدمات متاثر ہوں گی۔
حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن عملی طور پر ان اقدامات کی کامیابی کا دارومدار عالمی اقتصادی حالات پر ہے۔ اگرچہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن عوامی سطح پر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، عوامی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا حکومت اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت پر دور رس ہوں گے۔