اسلام آباد: وقار یونس کا تبصرہ سدھو کے مشہور ‘گولڈن ڈک’ پر دلچسپ تفصیلات پیش کرتا ہے، جو 36 سال پرانے قصے کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ پاکستان کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وقار یونس نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں نوجوت سنگھ سڈھو کے اس مشہور واقعے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ 1987 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پیش آیا تھا، جب سڈھو نے ایک اہم میچ میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے تھے۔
وقار یونس نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے نہ صرف سڈھو کی زندگی بلکہ بھارتی کرکٹ کی تاریخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کے حالات اور دباؤ نے سڈھو کو اس صورتحال کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔ وقار یونس کے مطابق، اس واقعے نے سڈھو کو ایک مضبوط کھلاڑی بنانے میں مدد کی، جو بعد میں اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔
یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سڈھو کی کرکٹ کیریئر کی یادیں دوبارہ زیر بحث ہیں۔ وقار یونس نے اس واقعے کو ایک سبق قرار دیا، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ناکامی بھی کامیابی کی طرف ایک قدم ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کو اپنی ناکامیوں سے سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔
یہ دلچسپ تبصرہ نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے اہم ہے بلکہ اس نے سڈھو کے مداحوں کے دلوں میں بھی ایک نئی امید جگائی ہے۔ وقار یونس کی یہ باتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کھیل میں ناکامی کبھی کبھی کامیابی کی طرف لے جانے والا راستہ بن سکتی ہے۔