سپر ایل نینیو

سپر ایل نینیو دنیا بھر میں 9 لاکھ اضافی اموات کا باعث بن سکتا ہے

اسلام آباد: موسمیاتی سائنس دانوں نے ایک انتہائی تشویش ناک اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شدید ترین موسمیاتی تبدیلی یعنی سپر ایل نینیو آئندہ صرف 10 ماہ کے دوران دنیا بھر میں تقریباً نو لاکھ اضافی انسانی اموات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس ہولناک پیش گوئی نے عالمگیر سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے والے اداروں اور طبی ماہرین میں تشویش کی شدید لہر دوڑا دی ہے۔

امریکی ریاست الینوائے کی نامور یونیورسٹی آف شکاگو سے منسلک ‘کلائمیٹ امپیکٹ لیب’ نے خصوصی طور پر ایک نیا ‘ایل نینو ہیٹ مورٹیلیٹی ٹریکر’ تیار کیا ہے۔ یہ جدید سائنسی ماڈل اس قدرتی موسمیاتی مظہر کے انسانی زندگی اور صحت پر مرتب ہونے والے بھیانک اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق سپر ایل نینیو کی لہر اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب وسطی اور استوائی بحر الکاہل کی سطح کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرینِ موسمیات کے اندازوں کے مطابق یہ تباہ کن موسمیاتی پیٹرن رواں سال جون اور ستمبر کے درمیانی عرصے میں ہی گرمی کی شدید لہروں کی وجہ سے دنیا بھر میں چار لاکھ 84 ہزار 500 سے زائد اضافی اموات کا باعث بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ موصول ہونے والے سائنسی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگلے چھ ماہ کے دوران عالمی سطح پر گرمی کے باعث مزید تین لاکھ 72 ہزار 900 افراد کے جاں بحق ہونے کے شدید خطرات موجود ہیں۔

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کا تیار کردہ مورٹیلیٹی ٹریکر اس حقیقت کی بھی تفصیلی نشاندہی کرتا ہے کہ کون سے ممالک اور خطے اس شدید درجہ حرارت سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سپر ایل نینیو کی وجہ سے زراعت، آبی وسائل اور عام انسانی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں استوائی علاقوں کے غریب اور پیشگی تیاری نہ رکھنے والے ممالک میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

عالمی سطح پر آنے والی اس تبدیلی کے باعث دنیا کے بیشتر حصوں میں خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، اور غیر معمولی طوفانی بارشیں جنم لے رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے چند ڈگری بلند ہوتا ہے تو اس سے روئے زمین کی ہوا کی نقل و حرکت میں زبردست خلل پڑتا ہے، جو مختلف براعظموں میں موسم کی خوفناک شدت کا سبب بنتا ہے۔

صحت کے عالمی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ سپر ایل نینیو نہ صرف حرارت سے متعلقہ بیماریوں، جیسے ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن میں اضافے کا سبب بن رہا ہے، بلکہ اس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی شدید قلت اور خوراک کے بحران میں بھی نامناسب اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گرمی کی اس شدت سے معمر افراد، بچے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیمیوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات اٹھائیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر دنیا نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو قابو میں نہ لایا اور سپر ایل نینیو جیسے خطرناک مظاہر سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار نہ کیں تو آنے والے سالوں میں ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار مزید بھیانک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔