اسلام آباد: ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکہ کا رابطہ ہوا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضایی سے بات چیت کی ہے تاکہ ملک پر نئے امریکی حملے کو روکا جا سکے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی وینس نے محسن رضایی کو ایک خط بھیجا ہے جس میں مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک پر توجہ دی گئی ہے۔ اس خط میں امن تجویز کی تفصیلات کی بجائے مذاکرات کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ نے خلیجی ممالک سے توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی کو بڑھا دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔