اسلام آباد: اسرائیلی انتخابات کے نتائج کے باعث مالیاتی منڈیوں میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں اسرائیلی کرنسی کی قدر میں کمی کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ غیر واضح نتائج ملک کی اقتصادی صورتحال پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے نتائج نے سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس غیر یقینی صورتحال نے مالیاتی منڈیوں میں منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس کی وجہ سے شائقین اور سرمایہ کاروں کی توجہ اس جانب مرکوز ہو گئی ہے۔
اسرائیلی کرنسی، شیکل، کی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو یہ منفی رجحان جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اپنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مزید گراوٹ کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، اسرائیلی حکومت کو فوری طور پر سیاسی استحکام کی کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال ہو سکے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات ملک کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے عوامی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔