جبری گمشدگیاں مقدمات

جبری گمشدگیاں مقدمات: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا دعویٰ

اسلام آباد: جبری گمشدگیاں مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں مبینہ سکیورٹی خلاف ورزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام پر اُن کے خلاف درج مقدمہ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کو نشانہ بنانے کے وسیع تر سلسلے کی کڑی ہے۔

ایمان مزاری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مقدمات دراصل اُن کی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کا ردعمل ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام نہ صرف اُن کے لیے بلکہ دیگر انسانی حقوق کے وکلا کے لیے بھی ایک خطرہ ہے جو کہ ملک میں بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہادی علی چٹھہ نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایسے مقدمات کا اندراج ایک منظم کوشش ہے تاکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو خاموش کیا جا سکے۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے ملک میں عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

یہ مقدمات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور انسانی حقوق کے ادارے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ان مقدمات کے خلاف قانونی جنگ لڑیں گے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔