اسلام آباد: سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد ہٹانے کی درخواستیں نظرانداز کی جا رہی ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس مواد کو روکنے کے لیے اقدامات ناکافی ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے انتہا پسند مواد ہٹانے کی متعدد درخواستیں کی ہیں، لیکن ان درخواستوں پر کوئی خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی درخواستوں پر فوری عمل کریں تاکہ معاشرتی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس نے نوجوانوں کو متاثر کرنے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے صارفین کی حفاظت کے لیے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کی درخواستوں پر عمل نہیں کرتیں تو حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔