ایران کے 440 کلوگرام یورینیم

ایران کے 440 کلوگرام یورینیم کا سراغ نہیں مل سکا: آئی اے ای اے

اسلام آباد: ایران کے 440 کلوگرام یورینیم کا سراغ نہیں مل سکا، یہ بات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے ایک حالیہ بیان میں کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مقدار کا انتہائی افزودہ یورینیم تاحال کسی بھی جگہ پر دستیاب نہیں ہے، جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک تشویش کا باعث ہے۔

گروسی نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے آئی اے ای اے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس وقت تک کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں جو اس یورینیم کی موجودگی کی تصدیق کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی جانب سے جوہری مواد کی شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔

یہ انکشاف اس وقت ہوا ہے جب ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی شفافیت کو بہتر بنائے۔