اسلام آباد: جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پمز اسپتال کے میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ میں رشوت کے عوض یہ سرٹیفکیٹ بنائے جا رہے تھے۔ اس معاملے میں 4 افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے، جن میں میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر شازیہ بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ افراد مریضوں سے بڑی رقمیں وصول کر کے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کر رہے تھے، جو کہ قانونی طور پر انتہائی سنگین جرم ہے۔ اس طرح کے سرٹیفکیٹ کا استعمال مختلف قانونی معاملات میں کیا جا رہا تھا، جس سے نہ صرف قانون کی عملداری متاثر ہو رہی تھی بلکہ عوامی اعتماد بھی ٹوٹ رہا تھا۔
گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صحت کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض افراد اپنی ذاتی مفادات کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور لوگ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔