اسلام آباد: لاہور ہائیکورٹ کا جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ استعفیٰ صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس کیانی نے اپنے استعفے میں واضح کیا ہے کہ ان کا ضمیر انہیں مزید اس عہدے پر رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل ہوئے تھے۔ ان کی خدمات کو قانونی حلقوں میں سراہا جاتا رہا ہے، اور ان کے استعفے نے قانونی برادری میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور اس عہدے پر رہنا ان کے ضمیر کے خلاف ہے۔
یہ استعفیٰ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جسٹس کیانی کی جانب سے یہ اقدام ایک اہم پیغام بھی دیتا ہے کہ عدلیہ کے اراکین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ ان کے اس فیصلے نے عوامی حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا، اور ان کے اس فیصلے کے اثرات مستقبل میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ ان کا یہ اقدام ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے کہ کیا عدلیہ کے اراکین کو اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے یا نہیں۔