میری کوم بائیوپک

میری کوم بائیوپک حقیقت پر مبنی نہیں تھی، بھارتی باکسر کا بڑا انکشاف

اسلام آباد: عالمی شہرت یافتہ بھارتی مکے باز اور اولمپک تمغہ یافتہ کھلاڑی نے اعتراف کیا ہے کہ میری کوم بائیوپک ان کی حقیقی زندگی اور سخت جدوجہد کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2014 میں بالی ووڈ میں بننے والی اس فلم میں ان کی زندگی کے کٹھن سفر اور قربانیوں کا بمشکل 10 فیصد حصہ ہی پردہ سیمیں پر پیش کیا جا سکا ہے جبکہ باقی 90 فیصد حقائق اور دشواریاں منظر عام پر آ ہی نہیں سکیں۔

فلمی ڈرامائی عنصر اور حقیقی زندگی کا فرق

نامور باکسر نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں فلم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینما کی دنیا میں تجارتی کامیابی کے لیے اکثر کہانی میں ڈرامائی عناصر شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پردہ سیمیں پر دکھائی جانے والی کہانی کے مقابلے میں ایک عام دیہاتی گھرانے سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کا سفر انتہائی دردناک اور تذبذب سے بھرپور تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میری کوم بائیوپک میں شائقین نے جو کچھ دیکھا وہ محض ایک سرسری جھلک تھی۔

ملازمت، مالی مشکلات اور ابتدائی تربیت

کھیل کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بھارتی باکسر نے بتایا کہ ریاست منی پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر باکسنگ رنگ تک پہنچنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ ابتدائی دور میں نہ تو مناسب خوراک میسر تھی اور نہ ہی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے سامان دستیاب تھا۔ مالی مشکلات اس حد تک شدید تھیں کہ سفری اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی سخت تگ و دو کرنا پڑتی تھی۔ ان تمام تلخ حقائق اور جسمانی و ذہنی تندرستی برقرار رکھنے کی جدوجہد کو فلمی اسکرپٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔

مادری ذمہ داریاں اور بین الاقوامی میدان

کھیلوں کی دنیا میں شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد واپسی کو ناممکن سمجھا جاتا ہے، تاہم میری کوم نے اس روایت کو توڑتے ہوئے چھ مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ باکسنگ کی سخت ترین مشقیں جاری رکھنا ایک دوہری جدوجہد تھی۔ میری کوم بائیوپک میں ان کے جذبے کو تو دکھایا گیا لیکن اس عمل کے دوران جن ذہنی اور جسمانی تکلیفوں سے وہ گزری ہیں، ان کو پردے پر منتقل کرنا ممکن نہیں تھا۔

شائقین اور نئی نسل کے لیے اہم پیغام

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس فلم کی کامیابی اور اداکارہ پرینکا چوپڑا کی محنت کی معترف ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ کسی بھی انسان کی پوری زندگی کو دو گھنٹے کی فلم میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے نئی نسل کے کھلاڑیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا اور اصل میدان جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ میری کوم بائیوپک محض ایک متاثر کن کہانی ہے جبکہ حقیقی زندگی کی رِنگ کہیں زیادہ سخت اور بے رحم ہوتی ہے۔