پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست

پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست: تاریخ کا سبق اور موجودہ صورتحال

اسلام آباد: پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست کا موضوع آج کل بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کیا یہ جماعت بھی پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کی طرح مصالحت پسندی کی راہ پر چل رہی ہے؟ یہ سوال اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا۔

اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں قائم تھی۔ عمران خان کے پاس دو راستے تھے: ایک تو یہ کہ وہ اپنی حکومتوں کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں، اور دوسرا یہ کہ وہ اقتدار کھونے کی دہائی دیتے رہیں اور بھرپور ایجیٹیشن کا آغاز کریں۔ خان صاحب نے دوسرا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ان کی جماعت نے سیاسی میدان میں ایک نئی حکمت عملی اپنائی۔

پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست کا آغاز اس وقت ہوا جب عمران خان نے اپنے حامیوں کو متحرک کیا اور حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس حکمت عملی نے انہیں عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد دی، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ طرز عمل انہیں طویل مدتی میں کامیابی دلائے گا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست کا اثر نہ صرف پارٹی کی موجودہ صورتحال پر پڑتا ہے بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی ایک اہم باب بن سکتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہ کی تو ممکن ہے کہ اسے بھی دیگر جماعتوں کی طرح نقصان اٹھانا پڑے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کس طرح اپنی مزاحمتی سیاست کو آگے بڑھاتی ہے اور کیا یہ واقعی عوامی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے گی یا صرف سیاسی ایجنڈے پر مرکوز رہے گی۔