اسلام آباد: تیل کی قیمتیں میں کمی کی وجہ مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کی امیدیں ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے حل کی کوششوں کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ تاہم، سعودی عرب پر ہونے والے حملوں نے خطے میں فوری استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا، جس کی وجہ سے برینٹ خام تیل کی قیمت چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، گرینچ معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق رات 12 بجے تک برینٹ خام تیل کی قیمت 66 سینٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی کے بعد 115.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 44 سینٹ، یعنی 0.43 فیصد کمی کے بعد 101.32 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ یہ اعداد و شمار عالمی منڈی میں تیل کی طلب اور رسد کے توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا تھا۔ سعودی عرب کے مطابق، اس دورے کا مقصد مذاکرات کے لیے کھلے رابطے قائم کرنا تھا تاکہ ‘فوجی کشیدگی کی واپسی کو روکا جا سکے’۔ یہ مذاکرات اس وقت اہمیت رکھتے ہیں جب خطے میں سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہوگی۔ تاہم، سعودی عرب پر حملوں کی صورت میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی نگرانی جاری رکھنا ضروری ہے۔