اسلام آباد: سونے کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ملک میں اقتصادی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں 24 قیراط کے لیے 2000 روپے فی تولہ بڑھ گئی ہیں، جس کے بعد قیمت 230,000 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 22 قیراط سونے کی قیمت بھی 185,000 روپے فی تولہ تک جا پہنچی ہے۔ یہ تبدیلیاں سرمایہ کاروں اور خریداروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہیں، کیونکہ سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی طلب میں اضافہ اور ڈالر کی قدر میں کمی نے مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی چیلنجز بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کی رائے میں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عوامی سطح پر خریداری کی طاقت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں، حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے آگاہ کرے اور ممکنہ اقدامات کرے۔