لاہور: حنا جاوید قتل کیس میں ایک نیا اور انتہائی اہم موڑ سامنے آیا ہے جہاں مقتولہ کے سوگوار خاندان نے پولیس کی جانب سے تشکیل دی گئی انویسٹی گیشن کمیٹی کے تمام تر نتائج اور رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ متاثرہ اہلخانہ نے واقعے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ایک باقاعدہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
حنا جاوید قتل کیس: پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ پر سنگین تحفظات
متاثرہ خاندان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے نام تحریر کیے گئے خط میں واضح موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس کی موجودہ انویسٹی گیشن کمیٹی نے کیس کی چھان بین کے دوران پیشہ ورانہ تقاضوں کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اصل حقائق کو مسخ کرنے اور کارروائی کا رخ موڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس کے باعث اہلخانہ کا موجودہ پولیس نظام اور مقامی تفتیشی عمل سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔
مراسلے میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ وقوعہ سے متعلق کئی اہم شواہد، سی سی ٹی وی فٹیجز اور تکنیکی ثبوتوں کو درست طریقے سے شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق، پولیس کے ابتدائی بیانات اور تحریری رپورٹ میں واضح تضاد دکھائی دیتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملے میں نااہلی یا جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حنا جاوید قتل کیس کی سچائی کو منظر عام پر لانے کے لیے ایک خودمختار عدالتی کمیشن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
شفاف انصاف اور جوڈیشل کمیشن کی فوری تشکیل کا مطالبہ
متاثرہ فریق نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بااختیار قلمدان کا استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر ایک بااختیار اور آزاد جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں جس میں اعلیٰ عدلیہ کے سینیئر جج صاحبان شامل ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک غیر جانبدارانہ جوڈیشل کمیشن ہی واقعے کی تہوں تک پہنچ کر حقیقی قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا سکتا ہے تاکہ مظلوم کے خون کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔
مقتولہ کے والد اور قانونی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حنا جاوید قتل کیس صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور خواتین کے تحفظ سے جڑا انتہائی حساس موضوع ہے۔ اگر اس نوعیت کے سنگین کیسز میں تفتیش کے نام پر لفاظی اور چشم پوشی سے کام لیا گیا تو عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے بھروسہ یکسر ختم ہو جائے گا۔
عوام اور سول سوسائٹی کا ردعمل اور حکومت سے توقعات
دوسری جانب، اس دردناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی متاثرہ خاندان کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب کو اس کیس میں فوری انتظامی مداخلیت کرتے ہوئے متاثرہ فریق کو مکمل تحویل اور انصاف فراہم کرنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے بھر میں انصاف کی بلاامتیاز فراہمی اور خواتین پر تشدد کے خلاف سخت اقدامات کے عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے، متاثرہ خاندان اب امید لگائے بیٹھا ہے کہ حکومت ان کے خط پر فوری یکسوئی کے ساتھ عمل درآمد کرے گی۔ پولیس تفتیش پر اٹھنے والے سوالات کے ازالے اور حنا جاوید قتل کیس کے اصل محرکات کو بے نقاب کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہی واحد منصفانہ راستہ ہے۔