اسلام آباد: پاکستان کی جین زی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی وجوہات جاننے کے لیے حالیہ اعدادوشمار اور نوجوانوں کے تجربات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نوجوان نسل، خاص طور پر وہ لوگ جو نوکری کی تلاش میں ہیں، سٹاک مارکیٹ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنی مالی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احمد علی، جو بہاولپور کے رہائشی ہیں، نے ایک سال تک نوکری کی تلاش میں ناکامی کے بعد چھ ماہ قبل سٹاک ایکسچینج میں اپنا پہلا اکاؤنٹ کھلوایا۔ انہوں نے سات ہزار روپے سے سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ احمد کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے ابھی تک زیادہ منافع نہیں کمایا، لیکن انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ان کی لگائی ہوئی رقم محفوظ ہے۔
فاطمہ رحمان، جو پہلے کرپٹو ٹریڈنگ کرتی تھیں، نے بتایا کہ کرپٹو کی غیر مستحکم نوعیت کی وجہ سے وہ تین ماہ قبل سٹاک ایکسچینج کی طرف منتقل ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری زیادہ محفوظ اور مستحکم ہے، جس کی وجہ سے وہ اس میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
پشاور کے بلال خان نے سوشل میڈیا ویڈیوز سے متاثر ہو کر اپنے دس دوستوں کے ساتھ مل کر ایک سال قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج میں دس اکاؤنٹ کھلوائے۔ کچھ دوستوں نے منافع کمایا، لیکن اکثریت کی رقم ڈوب گئی۔ اب وہ مارکیٹ کو سمجھنے کے لیے کلاسز لے رہے ہیں۔ یہ تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی سٹاک مارکیٹ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، لیکن انہیں اس میں کامیابی کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022 میں سٹاک مارکیٹ میں نوجوانوں کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک مثبت علامت ہے کہ نوجوان نسل مالی خود مختاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔