سعودی عرب ڈی پورٹ

سعودی عرب ڈی پورٹ:

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے دوران سیکیورٹی اداروں نے سعودی عرب ڈی پورٹ عمل کے تحت ایک ہی ہفتے میں 7 ہزار 934 افراد کو ان کے وطن واپس بھیج دیا ہے، جبکہ اقامہ، لیبر اور بارڈر سیکیورٹی قوانین کی 13 ہزار 905 سے زائد خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور بالخصوص سرحدی محافظین نے تمام خطوں میں گرینڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔مختلف قوانین کی خلاف ورزیوں کی تفصیلی رپورٹسعودی عرب کی وزارت داخلہ نے 15 سے 21 اکتوبر کے دوران کی جانے والی مشترکہ فیلڈ کارروائیوں کا اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے 8 ہزار 323 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 677 افراد کو سرحد عبور کرنے کی غیر قانونی کوششوں جبکہ 1 ہزار 905 افراد کو لیبر قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی طریقہ کار کے تحت سخت احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1 ہزار 374 افراد کو بھی سرحدوں پر حراست میں لیا گیا۔ سرحد پار کرنے کی ان کوششوں میں گرفتار ہونے والوں میں بڑی تعداد مختلف ممالک کے شہریوں کی تھی، جبکہ 71 ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جو سعودی عرب سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تارکین کو پناہ دینے، سہولت فراہم کرنے اور نقل و حمل میں مدد کرنے والے 17 سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔قانونی مراحل اور ملک بدری کا عملوزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ڈی پورٹ کی کارروائیاں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور مملکت کے قوانین پر مکمل عمل درآمد کروانے کے لیے بلا تفریق جاری ہیں۔ اس وقت تقریباً 15 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کے کیسز مختلف مرحلوں میں زیر التوا ہیں، جن میں سے اکثریت کو ان کے متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے سفری دستاویزی کارروائی مکمل کر کے جلد از جلد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ انتظامی کونسلوں نے واضح کیا ہے کہ سفری دستاویزات کے حصول کے لیے تمام قانونی اور سفارتی چینلز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں گرفتار شدگان کو ان کے سفر کی سفری دستاویزات کی ترتیب کے لیے ان کے ممالک کے سفارتی مشنز کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اب تک 4 ہزار سے زائد تارکین کو سفری دستاویزات حاصل کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے، جبکہ مزید ہزاروں افراد کی ایئر لائن بکنگ کے مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب ڈی پورٹ کارروائی کے ذریعے تمام خطوں میں شفاف اور فوری نظام نافذ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی مقیم شخص کو طویل عرصے تک مراکز میں نہ رکھا جائے۔سہولت کاروں کے لیے سخت ترین سزاؤں کی تنبیہسعودی حکام نے ایک بار پھر شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو سخت خبردار کیا ہے کہ جو بھی شخص کسی غیر قانونی تارک وطن کو مملکت میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے ٹرانسپورٹ یا رہائش دے گا یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا، اسے شدید قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے سہولت کاروں کو 15 سال تک قید اور 10 لاکھ ریال تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں اور رہائش گاہیں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی قیام کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ ہیلپ لائنز پر دیں۔ حکام نے اعادہ کیا ہے کہ سعودی عرب ڈی پورٹ اور حراست کی یہ مربوط مہم اس وقت تک بلا تعطل جاری رہے گی جب تک تمام خطوں کو غیر قانونی عناصر سے مکمل طور پر پاک نہیں کر دیا جاتا۔