تہران کی تجویز پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آ گیا عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی سفارتی تجویز پر نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی ردعمل موصول ہو چکا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور باوقار سفارتکاری کے فروغ کے لے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم تہران کے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔سفارتی حلقوں کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کا یہ نیا سلسلہ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان خطے میں ممکنہ کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر عالمی طاقتیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے قبل ایران اور امریکہ کے مابین تعلقات میں نرمی یا سختی کا انحصار انہی ابتدائی تجاویز اور ان کے ردعمل پر ہوگا۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی حتم پالیسی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم عباس عراقچی کے اس بیان نے سفارتی محاذ پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔