افغانستان میں عبوری طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں بتدریج تیزی آنے کے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا موڑ اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں افغان سرزمین پر سرگرم مختلف مسلح گروہوں بالخصوص افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی جانب سے طالبان سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال کابل انتظامیہ کے لیے اندرونی سطح پر ایک بڑا چیلنج بنتی ہے، جس سے ملک میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو بھی دھچکا لگ رہا ہے۔دستیاب اطلاعات کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور کنڑ کے سرحدی اور پہاڑی اضلاع میں طالبان حکومت کے خلاف گوریلا کارروائیوں کو تیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان حملوں میں طالبان فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے بعد کابل انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں اضافی کمک روانہ کر دی ہے۔ انم علاقوں کی کچی اور دشوار گزار سڑکیں اور بلند و بالا پہاڑی سلسلے مسلح گروہوں کے لیے پناہ گاہوں کا کام کرتے ہیں، جن کی وجہ سے طالبان سیکیورٹی فورسز کو روایتی عسکری کاروایوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی آبادی بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری تصادم کے باعث شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ دریں اثنا، اس بڑھتی ہوئی مسلح کشیدگی کے اثرات براہ راست ہمسایہ ملک پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر عدم استحکام کا فائدہ کالعدم تنظیمیں اور دیگر شدت پسند عناصر اٹھا رہے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی ممالک نے افغانستان میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کی بجائے سیاسی مکالمے کا راستہ اپنائیں تاکہ ملک کو ایک اور طویل خانہ جنگی سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آرہے ہیں۔