عنوان نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت، پنجاب میں 6 سے 10 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

اکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہرحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ رحیم یار خان کے کسان کو اپنے جائز حقوق، انصاف، تعلیم اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے مجبوراً لاہور کے طویل چکر لگانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ انتظامی نظام کو مفلوج قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے فوری حل اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے صرف پنجاب میں کم از کم 6 سے 10 نئے صوبے بنائے جائیں۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ میں جنوبی پنجاب کا حصہ 35 فیصد بنتا ہے، تاہم اسے بمشکل 12 فیصد حصہ دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب حسن ابدال کے شہریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بہتر گورننس، عوامی مسائل کے فوری حل اور بنیادی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کی ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ عوام کو نچلی سطح پر بااختیار بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام بھی قائم کیا جائے۔