اسلام آباد:بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جنوب مشرقی ایشیائی ملک فلپائن کے سمندر میں مسافر بردار فیری کو پیش آنے والے ہولناک آتش زدگی کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے۔ فلپائنی کوسٹ گارڈ اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیانات میں اس بات کی تصدیق کے گئی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران مزید لاشیں نکالی گئی ہیں جس کے بعد اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت جہاز پر سینکڑوں مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے جو اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے کہ اچانک آگ لگ گئی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فیری کھلے سمندر میں سفر کر رہی تھی کہ اچانک اس کے نچلے حصے میں واقع انجن روم سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مسافروں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ فلپائنی کوسٹ گارڈ، میری ٹائم انڈسٹری اتھارٹی اور بحریہ کے جہاز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ اس مشکل آپریشن کے دوران متعدد مسافروں کو سمندر سے زندہ بچا لیا گیا جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد فلپائن کی حکومت نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فیری کمپنی اور متعلقہ حکام کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ابتدائی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ حادثہ یا تو تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا پھر جہاز میں مسافروں اور سامان کی گنجائش مقررہ حد سے زیادہ تھی جو کہ حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس وقعی کے حوالے سے، دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں اور اداروں نے اس قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے جبکہ لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ماہرینِ بحری امور نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سمندری سفر کرنے والے جہازوں کے حفاظتی معیار اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔