اسلام آباد: یمن کی انصار اللّٰہ (حوثی) تحریک کے سینئر سیاسی رہنما اور اعلیٰ اہلکار محمد البخیتی نے ایک اہم اور سنسنی خیز بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حوثی فورسز نے تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی بحری تجارت اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل کا ایک بنیادی اور ناگزیر بحری راستہ ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، باب المندب پر کسی بھی عسکری یا سیاسی گروہ کا مکمل تسلط عالمی سطح پر رسد کے سلسلوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ محمد البخیتی کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور دنیا بھر کی بڑی بحری کمپنیوں نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس راستے پر اپنی آمدورفت محدود یا معطل کر رکھی ہے۔
دوسری جانب، علاقائی ممالک اور عالمی طاقتیں اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ پاکستان کے سفارتی حلقوں میں بھی اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس بحری گزرگاہ سے پاکستان کی درآمدات اور برآمدات بالخصوص توانائی کے شعبے کو براہ راست واسطہ رہتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس تازہ ترین دعوے کے بعد یمن کے تنازع میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے جس کے خطے کی سیاست اور معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔