سندھ کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ ڈاکو جانو اندھڑ اور اسکے 8 ساتھیوں کو کس نے مارا؟

دو روز قبل سندھ کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ ڈاکو جانو اندھڑ اور اس کے 8 ساتھی مارے گئے تھے باہمی مقابلے میں ہلاک ہوئے یا پولیس نے مارا کریڈٹ لینے کی جنگ چھڑ گئی میڈیاکے مطابق گزشتہ جمعے کی صبح سندھ کے کچے کے علاقے میں پنجاب سے داخل ہونے والے بدنام زمانہ ڈاکو جانو اندھڑ اور اس کے 8 ساتھی پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے ان میں سے 5 ڈاکوؤں کے سر پر ایک کروڑ روپے انعام تھا کچے میں ڈاکوؤں کو مارنے کا انعام کون لے گا؟ حدود کے تنازع پر ہمیشہ سے لڑتی پنجاب اور سندھ پولیس ایک بار پھرآمنے سامنے آگئی ہے تو دوسری جانب ڈاکوؤں کے گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھی باہمی لڑائی میں مارے گئے کچے میں اندھڑ گینگ کا سربراہ جانو اپنے 8 ساتھیوں سمیت مارا گیا تو سندھ میں کشمور اور پنجاب میں رحیم یار خان کے تھانوں میں الگ الگ مقدمے درج کر لیے گئے دونوں صوبوں کی پولیس کریڈٹ لینے کی تگ و دو میں لگ گئیں ڈاکوؤں سے مقابلے کے بعد اب ڈی پی او رحیم یار خان رضوان گوندل اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن میں زبانی مقابلہ چل پڑا ڈی پی او رحیم یار خان رضوان عمر گوندل کا دعویٰ ہے جانو اندھڑ اور ساتھیوں کو صادق آباد پولیس نے مارا۔ رحیم یارخان میں درج مقدمے کے مطابق دریائی پٹی چک گل محمد پرمقابلہ ہوا۔ ڈاکو مارے گئے ساتھیوں کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے ایس ایس پی کشمور کہتے ہیں اندھڑ گینگ کی دو دن پہلے موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا۔ گھیلپورمیں مقابلہ دو ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔ پولیس کےمخبرعثمان کو بھی ڈاکوؤں نے مار دیا۔ پنجاب پولیس تو آپریشن میں شریک ہی نہیں تھی دونوں صوبوں کی پولیس کی جانب سے کریڈٹ لینے کی کوششوں کو سوشل میڈیا پر ڈاکوؤں کے جاری کردہ بیان سے سوالیہ نشان لگ گیا ہے جس میں ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ کوئی پولیس مقابلہ نہیں ہوا بلکہ ڈاکو باہمی لڑائی میں مارے گئے ہیں اب مقابلہ ہوا یا نہیں لیکن گولیاں ضرور چلیں اور اس کے نتیجے میں گھر میں سوئے ہوئے 2 بچے جان سے چلے گئے کچے میں پولیس کی بڑی کارروائی، 8 ڈاکو مارے گئے واضح رہے کہ جانو اندھڑ سمیت 5 ڈاکوؤں کے سر پر ایک کروڑ روپے کا انعام تھا