امریکی عدالتی نظام نے Donald Trump کی انتظامیہ کو ایک اور بڑا دھچکا دیتے ہوئے امیگریشن عدالتوں میں پیش ہونے والے افراد کی گرفتاریوں کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق California کے ایک وفاقی جج نے منگل کے روز ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کے نفاذ کو ملک بھر میں روک دیا، جس کے تحت امیگریشن عدالتوں میں آنے والے تارکین وطن کو گرفتار کیا جا رہا تھا۔ اس پالیسی کے باعث ملک بھر میں شدید بحث اور تشویش پیدا ہوئی تھی۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال U.S. Immigration and Customs Enforcement نے مختلف عدالتی عمارتوں کی راہداریوں میں تارکین وطن کو گرفتار کرنا شروع کیا تھا، بعض اوقات ان کے مقدمات کی سماعت مکمل ہونے کے فوراً بعد بھی گرفتاریاں کی جاتی تھیں۔وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے امیگریشن عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے مراکز کے بجائے خوف کی علامت بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ افراد جو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش ہو رہے تھے، انہی کو گرفتاری کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم قانونی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے اس سے قبل وہ دیرینہ ہدایات ختم کر دی تھیں جن کے تحت عدالتوں کے اندر یا ان کے اطراف امیگریشن قوانین کے نفاذ پر مخصوص پابندیاں عائد تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ سابقہ پالیسیوں کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خطرناک افراد کی گرفتاری میں مشکلات پیش آتی تھیں۔