اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کیس میں ہولناک انکشافات سامنے آگئے

لاہور (ویب ڈیسک): لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین معصوم بچوں کے لرزہ خیز قتل کی تفتیش میں مزید سنگین اور ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ ردا اور اس کے مبینہ دوست شہریار کے درمیان 746 کالز کا ریکارڈ سامنے آیا ہے، جس کی مزید چھان بین جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ نے مبینہ طور پر “چھپن چھپائی” کے کھیل کے بہانے بچوں کو ایک ایک کر کے قتل کیا۔ پہلے ڈیڑھ سالہ بچی، پھر بیٹے اور آخر میں بڑی بیٹی کو قتل کیا گیا۔

تفتیش کے مطابق واردات کے بعد ملزمہ نے خون آلود کپڑے تبدیل کیے اور گھر کو تالہ لگا کر اپنے شوہر کے ساتھ اسپتال چلی گئی۔

مزید تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ سی سی ڈی کی ٹیم نے ملزمہ کی نشاندہی پر اس کے دوست شہریار کو جھنگ سے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دونوں کے درمیان قریبی تعلق تھا اور مبینہ طور پر وہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے۔

کیس کی مزید تفتیش سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے، جبکہ پولیس اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا شہریار اس منصوبے سے آگاہ تھا یا نہیں۔

یاد رہے کہ تین بچوں — 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ — کی لاشیں اچھرہ کے ایک گھر سے ملی تھیں، جنہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش میں ملزمہ نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔