سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے نوجوان عبدالصمد کے والد عبد الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمارت میں گیس پلانٹ نصب تھا جو چھت پر رکھا گیا تھا اور اسی نظام سے بیسمنٹ چلایا جا رہا تھا۔
گفتگو کرتے ہوئے عبد الرحمان کا کہنا تھا کہ گیس پلانٹ کے بارے میں سب کو علم تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں ان کے جوان بیٹے کا انتقال ہوا اور انہیں میت بند ڈبے میں دی گئی، جسے وہ دیکھ بھی نہ سکے اور اللہ کا نام لے کر تدفین کر دی۔
لواحقین کے بیانات جوڈیشل کمیشن میں ریکارڈ
دوسری جانب سانحے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ نے تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل ڈپٹی کمشنر ساؤتھ آفس پہنچے، جہاں متاثرہ خاندانوں نے پیش ہو کر واقعے سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور لواحقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
جسٹس آغا فیصل نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان شہدا کے لواحقین ہیں اور کمیشن چاہتا ہے کہ کارروائی کا آغاز انہی سے کیا جائے۔
“جانی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں”
انہوں نے کہا کہ ٹریبونل کا مقصد مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی نقصان کا کسی حد تک ازالہ ممکن ہے، مگر انسانی جان کا نعم البدل نہیں۔
کمیشن کی جانب سے لواحقین کے لیے سوالنامہ تیار کیا گیا ہے تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے، جبکہ دیگر متاثرہ خاندانوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ آکر اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں۔
جامع تحقیقات کے لیے معلومات جمع کرنے کا عمل جاری
جوڈیشل کمیشن عوام، سرکاری اداروں اور ریسکیو اہلکاروں سے بھی معلومات حاصل کر رہا ہے تاکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایک جامع رپورٹ تیار کی جا سکے۔
سانحے کے بعد فائر سیفٹی قوانین کو مزید سخت کرنے اور نئی حفاظتی شرائط فوری نافذ کرنے پر بھی کام جاری ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔