پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام شہری کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے پاکستانی شہریوں کی آمدنی کا تقریباً دو تہائی حصہ صرف خوراک اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، جس کے بعد باقی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہےسروے میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم پر صرف 2.5 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے جو کہ رہائش کے اخراجات کے مقابلے میں بھی بہت کم ہے، جبکہ گھریلو آمدنی میں بیرون ملک ترسیلات زر کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ بیرونی ذرائع پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے نوجوان اور باصلاحیت افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے خطرناک رجحان ہے۔