سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ میں اکیلا نہیں، پورا ملک کراچی کے حال پر چیخ رہا ہے، قیامت آچکی ہے اور کراچی والے دوزخ میں رہ رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق میئر کراچی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔وسیم اختر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو صوبہ چھبتا ہے تو انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ڈسٹرکٹ سطح پر انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گزشتہ 17 سالوں میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی نے تو 40 سالوں میں بھی صوبے کے لیے کچھ نہیں کیا۔سابق میئر کا کہنا تھا: “یہ نہ ڈیم بننے دیتے ہیں، نہ صوبہ، نہ کینال — آخر آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ایک پارٹی نے سندھ اور دوسری نے پنجاب پر قبضہ جما رکھا ہے، مگر ڈیلیوری زیرو ہے۔کراچی کی زبوں حالی پر بات کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ اگر آپ نے کچھ کیا ہوتا تو آج پورا ملک آپ کی بدعنوانی پر چیخ نہ رہا ہوتا۔ کراچی کا حال تباہ ہوچکا ہے اور حکومت کے نمائندے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ پیرس سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ “قیامت آچکی ہے اور کراچی والے دوزخ میں رہ رہے ہیں، اللہ ہم پر رحم کرے۔”وسیم اختر نے زور دیا کہ “مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں” کے نعرے کے پیچھے چھپنے والے نام نہاد جمہوریت پسندوں کو عوامی مفاد میں آؤٹ آف باکس فیصلے کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر 26ویں آئینی ترمیم آ سکتی ہے تو 27ویں ترمیم بھی ممکن ہے، جس کے ذریعے انتظامی یونٹس، ڈیمز، کینال اور این ایف سی جیسے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔