کراچی: قیامِ پاکستان کے بعد ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں نمایاں مقام بنانے والی فنکارہ عرشِ منیر کو مداح آج ان کی برسی پر یاد کر رہے ہیں۔عرشِ منیر 1914 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف صحافی، مزاح نگار اور ڈرامہ نویس شوکت تھانوی کی اہلیہ تھیں۔ شوکت تھانوی کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی نے عرشِ منیر کو بھی آل انڈیا ریڈیو سے بطور صداکارہ وابستہ ہونے کا موقع دیا۔ہندوستان کی تقسیم کے بعد عرشِ منیر نے اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی اور ریڈیو پاکستان سے بطور اسٹاف آرٹسٹ منسلک ہوئیں۔ بعد ازاں جب پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہوئیں تو وہ ٹی وی ڈراموں میں بھی نظر آئیں۔ان کا انداز بے ساختہ اور حقیقت سے قریب تر ہوتا تھا، جس نے انہیں ناظرین میں مقبول بنا دیا۔ عرشِ منیر نے پی ٹی وی کے یادگار ڈراموں شہزوری اور باادب باملاحظہ ہوشیار میں شاندار کردار ادا کیے جبکہ ان کا ریڈیو ڈرامہ دھابے جی آئے تو بتانا بھی بے حد مقبول ہوا۔فنِ اداکاری اور صداکاری میں اعلیٰ خدمات پر حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔عرشِ منیر 1998 میں انتقال کر گئیں اور کراچی کے سخی حسن قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔