لاہور: شہر میں اغوا کے متعدد واقعات پیش آتے ہیں لیکن کاہنہ کے علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا منفرد ہے، جہاں ایک ماں نے اپنی لاپتہ بیٹی کے اغوا کا الزام “جنات” پر عائد کیا ہے۔دو بچوں کی ماں فوزیہ بی بی 2019 میں لاپتہ ہوئی تھی۔ اس وقت والدہ نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو “جنات” نے اغوا کرلیا ہے۔ پولیس نے والدہ کی مدعیت میں دفعہ 365 (اغوا) کے تحت مقدمہ بھی درج کیا تھا۔تاہم خاتون کے نہ ملنے پر والدہ نے عدالت سے رجوع کیا اور لاہور ہائیکورٹ میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کو فوزیہ بی بی کی جلد بازیابی کا حکم دیا جس کے بعد پولیس نے ایک مرتبہ پھر کارروائی شروع کر دی ہے۔فوزیہ بی بی کی تلاش کے لیے لاہور پولیس نے 9 اعلیٰ افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس کی سربراہی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کر رہے ہیں۔ٹیم میں ایس ایس پی عاصم کمبوہ، ایس پی ماڈل ٹاؤن انویسٹی گیشن محمد ایاز، ڈی ایس پی اسپیشل برانچ، ڈی ایس پی سیف سٹی، ڈی ایس پیز سی سی ڈی حسنین حیدر اور دانش رانجھا، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کاہنہ سرکل عثمان حیدر اور انچارج انسپکٹر زاہد سلیم شامل ہیں۔خصوصی ٹیم نے خاتون کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔