جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، 6 اہم سوالات کے جواب کا مطالبہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک سات صفحات پر مشتمل خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے عدالتی نظام اور طریقہ کار سے متعلق چھ اہم سوالات کے جواب طلب کیے ہیں۔خط کے اہم نکات جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا کہ:نئے عدالتی سال سے قبل یہ سوالات نہایت اہم ہیں۔پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس اکتوبر 2024 سے تاحال کیوں نہیں بلایا گیا؟سپریم کورٹ رولز کی منظوری فل کورٹ کے بجائے سرکولیشن کے ذریعے کیوں دی گئی؟اختلافی نوٹ جاری کرنے سے متعلق نئی پالیسی فل کورٹ میں بحث کے بجائے یکطرفہ کیوں بنائی گئی؟ججز کی چھٹیوں کے حوالے سے نیا آرڈر عدلیہ کی آزادی سے متصادم کیوں جاری ہوا؟26ویں ترمیم کے خلاف درخواستیں فل کورٹ کے سامنے کیوں مقرر نہیں کی گئیں؟بینچز اور کاز لسٹ یکطرفہ طور پر اور بغیر مشاورت کے کیوں جاری ہو رہی ہیں؟چیف جسٹس کو براہِ راست پیغام خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا:”چیف جسٹس صاحب، آپ کے بعد سب سے سینئر جج ہونے کے ناطے ادارے کے لیے یہ خط لکھ رہا ہوں۔ آپ کو متعدد خطوط ارسال کیے لیکن تاحال کوئی تحریری یا زبانی جواب نہیں ملا۔”انہوں نے زور دیا کہ 8 ستمبر کو ہونے والی جوڈیشل کانفرنس میں ان سوالات کے عوامی سطح پر جواب دیے جائیں تاکہ ججز اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو۔مزید مؤقف جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق ان کے دور میں سب سے زیادہ 3956 مقدمات نمٹائے گئے اور 35 رپورٹڈ فیصلے تحریر کیے گئے۔سینئر ججز کو جان بوجھ کر سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے، جبکہ جونیئر ججز کو اہم بینچز میں شامل کیا جا رہا ہے۔
قومی اہمیت کے مقدمات سینئر ججز کے سامنے مقرر نہیں کیے جا رہے۔26ویں آئینی ترمیم کے کیسز ایک سال سے التوا کا شکار ہیں اور انہیں فل کورٹ کے سامنے ہی سنا جانا چاہیے۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط کے اختتام پر کہا کہ:”قوم اور ججز ان سوالات پر چیف جسٹس کی خاموشی نہیں چاہتے۔ آپ کے واضح جواب سے عدلیہ کی شفافیت، اجتماعیت اور آئینی وفاداری کا اعتماد بحال ہوگا۔”