امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 4 ارب ڈالر کی غیرملکی امداد روکنے کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔ واشنگٹن ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے فیصلہ دیا کہ وائٹ ہاؤس یکطرفہ طور پر کانگریس کی منظور کردہ امداد نہیں روک سکتا اور کانگریس کی مختص کردہ فنڈنگ پر عمل کرنا لازمی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظور شدہ 4 ارب ڈالر کی فنڈنگ کو روکنے کی کوشش کی تھی، جو محکمہ خارجہ اور یو ایس ایڈ کے ذریعے عالمی امدادی پروگراموں کے لیے مختص کی گئی تھی۔ جج نے حکم دیا کہ یہ فنڈز 30 ستمبر تک فراہم کرنا لازم ہیں، بصورت دیگر دوبارہ کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔واضح رہے کہ عدالت نے ایلون مسک کو یو ایس ایڈ کے خلاف مزید کسی کارروائی سے روک دیا اور حکم دیا کہ یو ایس ایڈ کے ملازمین کی دفاترتک رسائی فوری بحال کی جائے۔ٹرمپ انتظامیہ نے یو ایس ایڈ کے 300 ارکان کے علاوہ باقی عملے کو فارغ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کے تحت تقریباً 10 ہزار ارکان کو نکالا جائے گا اور صرف 611 ملازمین کو رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام پر کہا تھا کہ یو ایس ایڈ کو “پاگل چلایا جا رہا ہے”، جبکہ امریکا 180 ممالک کو 72 ارب ڈالر یو ایس ایڈ کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔