ماضی میں کبوتر صرف گھروں کی چھتوں تک محدود نہیں تھے بلکہ انہیں خطوط بھیجنے اور جاسوسی جیسے اہم کاموں کے لیے باقاعدہ تربیت دی جاتی تھی۔ یہ تربیت یافتہ کبوتر دور دراز علاقوں تک پیغامات پہنچانے کے قابل ہوتے تھے اور میدانِ جنگ میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔عام پرندے گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں لیکن کبوتروں میں ایک قدرتی صلاحیت پائی جاتی ہے جسے ہومنگ انسٹنکٹ کہا جاتا ہے۔ اس جبلّت کے ذریعے وہ اپنی آبائی جگہ پہچان لیتے ہیں اور ہزاروں میل دور لے جائے جانے کے باوجود واپس پہنچ سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت ان کے اندر موجود مقناطیسی حس سے جڑی ہے جو زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرکے سمت کا تعین کرتی ہے۔
اسپائی میوزیم میں کبوتروں کے کیمرے واشنگٹن ڈی سی کے انٹرنیشنل اسپائی میوزیم میں دنیا بھر کے جاسوسی آلات کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان میں ایک منفرد نمائش “کبوتر کیمرہ” بھی ہے، جو سی آئی اے کے خفیہ منصوبے کا حصہ تھا۔ یہ ننھا کیمرہ صرف 35 گرام وزنی اور پانچ سینٹی میٹر چوڑا تھا، جسے کبوتر کے ساتھ باندھ کر خفیہ فوٹوگرافی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔چونکہ جہاز اور سیٹلائٹ زیادہ بلندی سے تصویریں لیتے تھے، اس لیے کبوتروں کے کیمرے کی تصاویر زیادہ قریب اور واضح ہوتی تھیں۔ ان کیمروں میں یہ سہولت بھی تھی کہ فوری طور پر یا طے شدہ وقت کے بعد تصویریں لی جا سکیں۔کبوتروں کا تاریخی استعمال کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کا آغاز تین ہزار سال قبل مصر میں ہوا۔مسلمانوں نے نورالدین زنگی کے دور (567ء) میں ایک باقاعدہ نظام بنایا اور بعد ازاں بغداد کے سلطان نے اسے مزید منظم کیا۔یورپ اور ایشیا میں یہ نظام چنگیز خان کے ذریعے پھیلا اور فرانسیسی انقلاب میں بھی استعمال ہوتا رہا۔پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں کبوتروں کو بڑے پیمانے پر پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا گیا اور کئی کبوتروں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں میڈلز بھی دیے گئے۔سرد جنگ اور سی آئی اے کا منصوبہ سرد جنگ کے دوران سی آئی اے نے کبوتروں کی ہومنگ انسٹنکٹ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ان کے ساتھ ننھے کیمرے باندھے تاکہ وہ ماسکو جیسے حساس علاقوں کی خفیہ تصویریں کھینچ سکیں۔ اگرچہ اصل منصوبے کی تفصیلات آج تک راز ہیں، مگر یہ معلوم ہے کہ ان کبوتروں کو خفیہ مقامات سے چھوڑا جانا تھا تاکہ وہ واپسی پر اہم تصاویر فراہم کر سکیں۔جانور اور جنگی مقاصد تاریخ میں انسان نے کئی جانوروں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ڈولفن اور سی لائینز بارودی سرنگیں ڈھونڈنے کے لیے استعمال ہوئیں۔چمگادڑوں پر چھوٹے بم باندھے گئے۔ہاتھیوں کو زندہ ٹینک بنایا گیا۔مگر جاسوسی اور پیغام رسانی کے میدان میں سب سے کامیاب اور وفادار ساتھی کبوتر ہی ثابت ہوئے۔