ایران پر دوبارہ پابندیوں کی تیاری، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی پیشکش

نیو یارک — اقوام متحدہ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کو ایک نئی پیشکش دی ہے کہ اگر وہ عالمی جوہری ایجنسی کو مکمل رسائی دے اور یورینیم افزودگی سے متعلق خدشات دور کرے تو اس پر دوبارہ پابندیوں میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔”اسنیپ بیک میکنزم” کی تیاری غیر ملکی میڈیا کے مطابق تینوں یورپی ممالک نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ “اسنیپ بیک میکنزم” کو فعال کر رہے ہیں، جس کے تحت آئندہ 30 روز کے اندر ایران پر تمام عالمی پابندیاں دوبارہ لگ سکتی ہیں۔یورپی ممالک کی شرائط برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایران کے سامنے تین شرائط رکھی ہیں:عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو مکمل رسائی یورینیم افزودگی سے متعلق شکوک دور کرنا امریکا کے ساتھ دوبارہ جوہری مذاکرات میں شامل ہونا ایران کا ردعمل ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید نے یورپی ممالک کی پیشکش کو “غیر حقیقی” اور “پیشگی شرائط سے بھرپور” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “یورپی ممالک ایسے مطالبات کر رہے ہیں جو مذاکرات کا نتیجہ ہونا چاہیے، آغاز نہیں۔” ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ تینوں ممالک کے پاس اسنیپ بیک میکنزم کو فعال کرنے کا “کوئی قانونی اختیار نہیں” ہے۔ ایران نے روس اور چین کی حمایت کا بھی حوالہ دیا۔ایران مذاکرات پر آمادہ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اگر مغربی ممالک سنجیدگی اور خیرسگالی دکھائیں تو ایران اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔چین کا مؤقف چین نے بھی یورپی اقدام پر تنقید کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون کے مطابق:”ایرانی جوہری مسئلہ ایک نازک مرحلے پر ہے، اس مرحلے پر پابندیوں کا طریقہ کار تعمیری نہیں بلکہ سفارتی حل کے عمل کو نقصان پہنچائے گا۔”