لاہور: پنجاب میں مسلسل بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے بعد آنے والے خوفناک سیلاب نے ہزاروں لوگوں کے گھر اور بستیاں تباہ کر ڈالیں، جس کے باعث لوگ شدید مشکلات میں نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔فصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریاؤں کے اچانک بڑھتے ریلوں نے گاؤں اور شہر ڈبو دیے ہیں۔ دریائے چناب کا پانی جب بستیوں میں داخل ہوا تو جھنگ میں مائیں اپنے بچوں کو سنبھالے جان بچانے کے لیے نکل کھڑی ہوئیں۔ خواتین، بچے اور بزرگ پیدل ہی محفوظ مقامات کی جانب جانے پر مجبور ہو گئے۔نیوٹ کے گاؤں ہرسہ بُلہا کے تقریباً 5 ہزار مکین سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ ایک خاتون نے فریاد کرتے ہوئے کہا: “پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے، ہمیں تو تیرنا بھی نہیں آتا، کھانے پینے، کشتیوں اور کیمپوں کا فوری انتظام کیا جائے۔”لاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیں، جبکہ دریائے چناب کا خوفناک ریلا موٹروے ایم-2 تک پہنچ گیا ہے۔ موٹروے کو بچانے کے لیے اسپیل وے کھولا گیا لیکن اس کے نتیجے میں شہر کی کئی آبادیاں ڈوب گئیں۔گنڈاسنگھ والا میں 15 سے 20 فٹ تک پانی جمع ہو گیا ہے، جہاں درجنوں لوگ اب بھی محصور ہیں اور گھروں کی چھتوں پر پناہ لیے بیٹھے ہیں۔ رنگ پور کے لوگ بے بسی کے عالم میں انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی آ کر انہیں بچائے۔دوسری جانب دریائے ستلج نے بہاولنگر اور پاکپتن میں تباہی مچا دی ہے۔ حویلی لکھا میں متاثرین نے چارپائیاں اور ڈرم باندھ کر عارضی کشتیاں بنائیں اور اسی کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچنے کی کوشش کی۔