گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت ہمیشہ سے ہی سیلاب سے قبل اطلاع دیتا رہا ہے، بعض اوقات یہ اطلاع عین وقت پر بھی دی جاتی ہے۔ اس بار بھی بھارت نے ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان کو آگاہ کی خواجہ آصف نے کہا کہ سیلابی ریلوں میں بھارت کی کسی شرارت کے کوئی ثبوت نہیں ہیں، کیونکہ ہم بھی اپنے ڈیمز سے پانی ریلیز کرتے ہیں، اگر ایسا نہ کریں تو قریبی آبادیوں کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق شہری علاقوں میں 50 سال بعد اتنی شدید بارش ہوئی ہے، لیکن اصل مسئلہ دریاؤں اور نالوں کے کنارے پر ہونے والی تجاوزات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے وسط سے گزرنے والے نالے کے اطراف میں فیکٹریاں بنی ہوئی ہیں جو خطرات بڑھاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمین پر بھی بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات ہو رہی ہیں، ہر کوئی قبضہ کر لیتا ہے۔ بارشوں کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس کے لیے باقاعدہ سروے شروع کیا جا رہا ہے۔