لاہور میں المیہ: لوڈڈ فرائز کھانے سے دو کمسن بہنیں جاں بحق، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات بتادیں

لاہور کے ایک نجی ریسٹورینٹ میں فرائز کھانے کے بعد دو کمسن بچیوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے پر ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے اہم تفصیلات بتائیں۔ پروگرام ’’باخبر سویرا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ بچیوں نے گھر کے قریب فوڈ پوائنٹ سے لوڈڈ فرائز خریدے تھے۔ کھانے کے بعد بچیوں کو شدید قے شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کے جسم میں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن) پیدا ہوگئی۔ قریبی اسپتال میں بروقت اور درست علاج نہ ملنے کے باعث دونوں بچیوں کی جان نہ بچائی جا سکی۔ عاصم جاوید نے کہا کہ موجودہ موسم میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے، زیادہ تر قے اور گیسٹرو کی علامات سامنے آتی ہیں۔ اگر باسی کیچپ یا سوس استعمال کی جائے تو اس میں بیکٹیریا پیدا ہوتا ہے جو فوڈ پوائزننگ کا باعث بنتا ہے۔ ریسٹورینٹ انتظامیہ اور افسران کے خلاف کارروائی ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ریسٹورینٹ کے مالک اور منیجر کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ غفلت برتنے پر متعلقہ فوڈ انسپکٹر کو معطل کرکے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر اور لواحقین کا مؤقف ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کی فیملی نے 16 اگست کی رات ریسٹورینٹ میں کھانا کھایا۔ گھر پہنچتے ہی دونوں بیٹیوں اور ایک بیٹے کی طبیعت خراب ہوگئی۔ طبی امداد کے دوران چھ سالہ تحریم اور چار سالہ ارحا دم توڑ گئیں جبکہ بیٹے کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعے کی ایف آئی آر بچیوں کے والد عظیم کی مدعیت میں تھانہ ستوکتلہ میں درج کی گئی ہے اور تحقیقات تمام پہلوؤں سے جاری ہیں۔ فوڈ پوائزننگ کے دیگر کیسز یاد رہے کہ حال ہی میں پنجاب کے شہر حافظ آباد میں مبینہ طور پر شوارما کھانے سے کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی تھی۔ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق مضر صحت شوارما کھانے سے تین فیملیز کے نو افراد متاثر ہوئے جنہیں سول اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔