تفصیلات کے مطابق سانحہ سوات کو 10 روز گزر گئے ہیں ، دریائے سوات میں 10 ویں روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے، ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کی غوطہ خورٹیمیں جدید آلات کے ہمراہ دریائے سوات میں لاپتہ نوجوان عبداللہ کی تلاش میں مصروف ہیں۔ کمشنرمالاکنڈ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ متاثرہ سیاح نو بجکر اکتیس منٹ پردریا میں گئے، چودہ منٹ بعد نو بج کر پینتالیس منٹ پرپانی کی سطح بڑھی اور ریسکیو اہلکار بیس منٹ بعد دس بج کر بجکرمنٹ پرپرپہنچے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے انکوائری کمیٹی کو بتایا 23 جون کو بارشوں سے متعلق ضلعی انتظامیہ کوالرٹ جاری کیا، جس میں سوات، دیر، کوہستان اور شانگلہ کے ندی نالوں میں فلیش فلڈ سے خبردار کیا اور چھوٹی بڑی مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ چھیالیس کروڑ روپے کےفنڈز جاری کیے، امدادی سامان بھی فراہم کیا تھا تاہم چھبیس جون کو دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں طغیانی کے باعث سترہ افراد بہہ گئے تھے جن میں سے چارکو چالیا گیا تھا جبکہ بارہ کی لاشیں مل چکی ہیں. یاد رہے دریائے سوات میں جمعہ کو انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے ڈسکہ اور مردان کی دو فیملیز ڈوب گئیں، جن میں سے ابھی تک ایک شخص لاپتا ہیں جبکہ چار کو بچالیا گیا تھا۔ بدقسمت تمام افراد ڈیڑھ گھنٹہ سے زائد وقت ریسکیو کا انتظار کرتے رہے، ہاتھ پیر چلاتے رہے، لوگوں کو مدد کیلئے پکارتے رہے لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔ سانحے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی نااہلی چھپاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت چھے افسروں کو معطل کردیا، جن میں میتیں کچرے کی گاڑی میں منتقل کرنے والا ٹی ایم او خوازہ خیلہ زاہد اللہ بھی شامل ہے ۔