اسلام آباد (ویب ڈیسک) : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعے کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر کے عام آدمی سے سکون چھین لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اسمبلیوں سے مبینہ غیر شرعی قوانین کی منظوری کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
پشاور میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کے خلاف 12 اپریل سے مردان سے باقاعدہ تحریک کے آغاز کا بھی اشارہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر کے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ حکمران خود عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کو مشکوک قرار دیا کہ راستے بند ہونے سے قیمتیں بڑھیں، اور کہا کہ تجارت کے راستے اور سرحدیں خود بند کی گئی ہیں۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے اسمبلیوں سے منظور ہونے والے حالیہ قوانین کو آئین اور شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے غیر اسلامی ممالک کے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کو شرعی اصولوں کے منافی قرار دیا اور کہا کہ جب “جعلی حکومت” ایسے قوانین پاس کرے گی تو وہ علمِ بغاوت بلند کریں گے۔
انہوں نے ملکی سالمیت اور موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر تمام حقائق عوام کے سامنے نہیں لائے جا سکتے تو کم از کم عوامی نمائندوں کو ملک کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت “جعلی” ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی ہے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج یورپ بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے الگ ہو رہا ہے، لیکن ہمارے حکمران اب بھی امریکہ کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ وقت مصلحت پسندی کا نہیں بلکہ جرات مندانہ فیصلوں کا ہے۔