اسلام آباد (ویب ڈیسک): حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ملک میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 138 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ نئے نرخ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں اضافہ وجہ قرار
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ خلیج کی جنگ کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس بحران کی لپیٹ میں ہے اور حکومت کو مشکل مگر ذمہ دارانہ فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی استحکام لایا گیا، جبکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں کوششیں جاری ہیں کہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
129 ارب روپے خرچ کیے گئے
وزیر مملکت کے مطابق پاکستان اپنی تقریباً 80 فیصد توانائی کی ضروریات دبئی اور عمان سے پوری کرتا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ڈھائی سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے یکم مارچ سے اب تک وفاقی حکومت 129 ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور کمزور طبقات کو ہدف بنا کر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
سبسڈی کے بجائے ہدفی ریلیف کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فوجی قیادت اور وزرائے اعلیٰ کے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سبسڈی کے بجائے کمزور طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن جاری
حکومتی اعلان کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 3 اپریل سے ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔