لاہور(ویب ڈیسک) – تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
عدالتِ عالیہ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 450 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ریجن کے دیگر ممالک میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، جبکہ پاکستانی عوام کی آمدنی کم ہونے کے باوجود ان پر مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
درخواست میں حکومت اور اوگرا کی پالیسیوں کو غیر شفاف اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کے لیے کسی واضح اور شفاف فارمولے کو نہیں اپنایا، پٹرولیم لیوی اور بھاری ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ پٹرول مہنگا ہونے سے براہِ راست خوراک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے متاثر ہوں گے، جس سے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا جائے اور حکومت کو قیمتوں کے تعین کے لیے ایک آئینی و شفاف طریقہ کار وضع کرنے کا پابند کیا جائے۔