امریکا بھر میں “نو کنگز” احتجاج، ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر

ہفتے کے روز امریکا کے مختلف شہروں میں مظاہرین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، جہاں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف “نو کنگز” احتجاجی سلسلے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا۔این بی سی کے مطابق مرکزی ریلی سینٹ پال میں منعقد ہوئی، جہاں اس موسم سرما میں امیگریشن کارروائی کے دوران دو امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ امریکا اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے شریک ہونے کی توقع ہے، اور یہ دن امریکی تاریخ میں پرامن احتجاج کا سب سے بڑا دن ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق تمام 50 ریاستوں اور کئی براعظموں میں 3,200 سے زائد مارچز کی منصوبہ بندی کی گئی، جہاں مظاہرین نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی پر شدید احتجاج کیا۔سینٹ پال کو اس تحریک کا مرکزی مقام بنانا خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ حالیہ امیگریشن کارروائیوں کے بعد حساس بن چکا ہے، جن میں شہری ہلاکتوں پر شدید تنقید سامنے آئی تھی۔گروپ 50501 کی قومی کوآرڈینیٹر سارہ پارکر نے کہا کہ عوام بڑھتی مہنگائی، ایران میں جاری جنگ اور حکومتی پالیسیوں پر شدید غصے میں ہیں۔دوسری جانب ٹِم والز نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیگریشن کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور کہا کہ ریاست کے لوگ ان واقعات کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔اجتماع کے دوران معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین کو بھی مدعو کیا گیا، جنہوں نے مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور اس موضوع پر اپنا نیا گانا بھی پیش کیا۔