نیوسیدآباد (ویب ڈیسک): نیوسیدآباد تھانے کے رہائشی کوارٹر میں اہلکار فیاض بلال کا پراسرار گولی لگنے سے انتقال، واقعہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ لیڈی پولیس کانسٹیبل نور بانو قمبرانی نے اپنے ہی ساتھی اہلکار فیاض بلال کو قتل کیا۔
پولیس کے مطابق:
اہلکار فیاض بلال گذشتہ رات کوارٹر میں لیڈی کانسٹیبل کے تشدد کا شکار ہوئے۔
تفتیش کے دوران لیڈی کانسٹیبل نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے منتخب ہتھیار سے فیاض بلال کو قتل کیا کیونکہ وہ خود ان پر تشدد کر رہا تھا۔
فوت شدہ اہلکار کی مامی شجاع محمد کی درخواست پر نور بانو، ان کی بھانجی عجب گل قمبرانی اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف نیوسیدآباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
کیس کی تفصیلات:
فیاض بلال کی ڈیوٹی گل فارم پولیس چوک پر تھی، جہاں اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی اور انہوں نے اطلاع دی۔
جب مامی کوارٹر پہنچی تو دیکھا کہ نور بانو اور دیگر افراد آپس میں لڑ رہے تھے، اچانک نور بانو نے فیاض بلال پر سرکاری رائفل سے فائر کیا، جس سے وہ موقع پر ہی انتقال کر گئے۔
لاش اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ڈاکٹروں نے وفات کی تصدیق کی۔
پولیس کا بیان:
ایس ایس پی مٹیاری عبدالعلیم بلو نے فوری طور پر نور بانو کو حراست میں لیا۔
تفتیش کے دوران نور بانو نے مبینہ طور پر قتل کا اعتراف کیا اور بتایا کہ فیاض بلال ان پر مارکٹ کرتے تھے، جس پر انہوں نے غصے میں آ کر قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، لیڈی کانسٹیبل اور مقتول اہلکار نے کچھ عرصہ قبل خفیہ شادی کی تھی، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔