تہران (ویب ڈیسک) ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران کے لیے امریکہ کے ساتھ سفارتکاری ہمیشہ “تباہ کن تجربہ” رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مذاکرات کا عمل ہوا، امریکہ نے ایران پر حملے کر کے اس اعتماد کو توڑا۔
ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران مذاکراتی کوششوں کے دوران ایران پر دو بار حملے کیے گئے، جو سفارتکاری کیساتھ غداری کے مترادف ہیں۔
بقائی نے کہا کہ کئی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی، اور گزشتہ چند روز سے متعدد پیغامات بھیجے گئے، مگر ایران کا موقف بہت واضح ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
ایران نے صدر ٹرمپ کے “نئے گروپ” اور “مذاکرات” کے دعوؤں کو سفارتی دھوکہ دہی قرار دیا اور کہا کہ موجودہ جنگی حالات میں کسی قسم کی ڈیل یا معاہدے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔