رائٹرز کا دعویٰ: ایران حملے سے قبل اہم خفیہ رابطے اور منصوبہ بندی

لندن (ویب ڈیسک)برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کے مطالبے پر امریکی آپریشن “ایپک فیوری” کی منظوری دی۔

رائٹرز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں نیتن یاہو نے ایران پر کارروائی کی وجوہات بیان کیں اور مؤقف اختیار کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا یہ بہترین موقع ہے۔ انٹیلی جنس بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر ایک اہم ملاقات کرنے والے تھے اور ٹائمنگ میں تبدیلی کے باعث مبینہ طور پر “ڈی کیپی ٹیشن اسٹرائیک” کا موقع پیدا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا اور امریکی فوج کئی ہفتوں سے اس کی تیاری کر رہی تھی۔ خراب موسم کے باعث ابتدائی طور پر طے شدہ تاریخ مؤخر کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی کال کو صدر ٹرمپ کے حتمی فیصلے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی آپریشن شروع کرنے کا حکم 27 فروری کو دیا گیا، جبکہ 28 فروری کی صبح ایران پر بمباری کا آغاز ہوا اور بعد ازاں شام کو اس کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی میزائل اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔