اسلام آباد: اوورسیز پاکستانیز سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید رفیع اللہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں سے متعلق اہم امور زیر غور آئے۔اجلاس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ڈگریوں کی بحرین میں عدم منظوری کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے اوورسیز طلبہ کے مستقبل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بچوں کے مستقبل کو داؤ پر نہیں لگنے دیا جائے گا۔چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ بحرین کی جانب سے ویریفکیشن روکے جانے پر تحریری اعتراض کیوں نہیں دیا گیا۔ بحرین میں تعینات اتاشی کے مطابق باضابطہ خط و کتابت نہیں ہوئی تھی تاہم عملی طور پر ویریفکیشن روک دی گئی تھی جو اب بحال ہو چکی ہے۔ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ یونیورسٹی کے 60 لاکھ سے زائد گریجویٹس ہیں اور ادارہ 38 ممالک میں 80 سے زائد آن لائن پروگرامز آفر کر رہا ہے، جبکہ اوورسیز طلبہ کے لیے علیحدہ ڈائریکٹوریٹ بھی قائم ہے۔ حکام کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کینیڈا میں ڈگریوں کی قبولیت سے متعلق دستاویزات بھی پیش کی گئیں۔