پابندی کے باوجود پنڈی اسلام آباد میں دھماکا خیز فلئیر گیس کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف

پابندی کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں دھماکا خیز فلئیر گیس کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس نے عوامی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں فلئیر گیس مافیا بے لگام ہو چکی ہے اور پٹرولیم ڈویژن کے ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ کی واضح پابندی کے باوجود غیر قانونی طور پر فلئیر گیس کی فروخت جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف راولپنڈی اور اسلام آباد میں 28 سی این جی اسٹیشنز پر یہ گیس غیر قانونی طور پر فروخت کی جا رہی ہےاوگرا قوانین کے تحت فلئیر گیس صرف بھٹوں اور صنعتی مقاصد کے لیے جلانے کی اجازت ہے، کیونکہ یہ گیس انتہائی دھماکا خیز ہے اور اس کے غلط استعمال سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی سرگرمی صرف جڑواں شہروں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی فلئیر گیس دھڑلے سے فروخت کی جا رہی ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 1200 اسٹیشنز پر فلئیر گیس فروخت ہو رہی ہے۔ماضی میں خیبر پختونخوا اور سندھ میں فلئیر گیس کے استعمال کے باعث دھماکوں اور جانی و مالی نقصانات کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ گیس نہ صرف دھماکا خیز ہے بلکہ گاڑیوں کے انجن اور ماحول کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ڈائریکٹر ایکسپلوسو نے اپنے مؤقف میں بتایا ہے کہ مختلف علاقوں میں فلئیر گیس فروخت کرنے والے 13 اسٹیشنز کے لائسنس منسوخ کیے جا چکے ہیں، تاہم متعلقہ سی این جی اسٹیشنز نے عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کر رکھا ہے اور اسی آڑ میں کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔