سانحہ گل پلازہ 26 لاشیں مل گئیں 20 کی شناخت 83 افراد تاحال لاپتا کراچی سوگ میں ڈوبا

سانحہ گل پلازہ پر کراچی کی فضا آج سوگوار ہے۔ عمارت کے ملبے سے اب تک 26 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں سے 20 کی شناخت ہو گئی ہے، جبکہ 83 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا کہنا ہے کہ ناقابل شناخت لاشوں کو ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپلز اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 18 لاپتا افراد کے ورثا نے ڈی این اے سیمپل جمع کرا دیے ہیں۔گل پلازہ کے ملبے پر درجنوں شہری اشکبار نظر آ رہے ہیں اور اپنے پیاروں کے لیے کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ جائے حادثہ پر متاثرہ افراد نے کرین کے سامنے آ کر ملبہ اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی اور مطالبہ کیا کہ پہلے لاشیں نکالی جائی ریسکیو ٹیمیں عقبی راستے سے گل پلازہ میں داخل ہوئیں اور ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ گل پلازہ کے ساتھ واقع عمارت کے دو پلر بھی ٹوٹ چکے ہیں جس کے باعث ایک حصے کے گرنے کا خطرہ ہے۔حفاظتی اقدامات کے تحت پلازہ کی چھت پر موجود پارکنگ سے گاڑیاں اتاری جا رہی ہیں۔ کرین کی مدد سے 17 گاڑیاں، 12 موٹر سائیکلیں، ایک رکشہ اور چار جنریٹرز اتار لیے گئے ہیں۔ گل پلازہ سے ملحقہ دونوں سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہیں، شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات گئے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد نہیں مل جاتے، ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے ریسکیو کارروائی میں مصروف ہیں۔