کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع موبائل الیکٹرونکس کے بڑے تجارتی مرکز گل پلازہ میں گزشتہ شب لگنے والی خوفناک آگ 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکی موبائل الیکٹرونکس ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام کے مطابق گل پلازہ کی پوری مارکیٹ جل کر خاکستر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مارکیٹ سے ڈیڑھ سے دو لاکھ خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا اور یہ آگ صرف ایک عمارت کو نہیں بلکہ کراچی کی معیشت کو لگی ہے۔آتشزدگی کے باعث عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور تیسرے درجے کی آگ کے سبب پلازہ کے منہدم ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے وقفے وقفے سے سلنڈر اور اے سی آؤٹر پھٹنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق پلازہ کا عقبی حصہ زمین بوس ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر فرقان سمیت اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ متعدد افراد جھلسنے اور دم گھٹنے کے باعث زخمی ہوئے ہیں، جن میں 12 کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔پلازہ کی دوسری اور تیسری منزل پر متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اسنارکل اور بھاری مشینری کی مدد سے سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ شہر بھر سے فائر ٹینڈر طلب کر لیے گئے ہیں اور ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔